ابنا: ایرانی حکومت کی ویب سائٹ کے مطابق، "علی سعیدلو" نے ایرانی حکام کے مغربی نمایندوں کے ساتھ استنبول اور بغداد میں جوهری مذاکرات اور اس کے علاوه روسی وزیر خارجه کا حالیه دوره ایران کا حواله دیتے هوئے کها ایران ماسکو مذاکرات کے نتیجه خیز هونے پر امید رکھتا هے.
انهوں اس بات پر زور دیا که اسلامی جمهوریه هر حال میں 20 فیصد تک یورینیوم کی افزودگی کرے گا.
انهوں نے کها شنگھائی اجلاس کے نتایج بهت اهمیت کے حامل هیں اور ایران بھی کئی سالوں سے اس اجلاس میں بڑی دلچسپی کے ساتھ شرکت کرتا آرها هے.
ایرانی نائب صدر برائے بین الاقوامی امور نے مزید کها که ایران ابھی شنگھائی تنظیم میں بحیثیت نگراں ممبر کام کرتا هے اور اس کا کوشش هے که کچھ عرصے کے بعد اس کو تنظیم کا مستقل ممبر بنا دیا جائے.
علی سعیدلو نے کها، ایران کے شنگھائی تنظیم کے اجلاس شرکت کے دو مقاصد تھے ایک یه که عالمی اور خطے میں اقتصادی مشکلات کو حل کرنے کے لیے اپنی تجاویز پیش کرے اور دوسرا یه که دوسرے ممالک کے سربراهوں کے ساتھ اهم امرو پر دو طرفه ملاقاتیں کی جائے. ........
/169